جہلم: دریائے جہلم میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک بلند ہونے کے باعث تحصیل جہلم اور تحصیل جہلم کے بیلہ کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی ہے۔
نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے گندم کی تیار فصلیں اور بھوسے کے ڈھیر شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ کئی مقامات پر کھڑی فصلوں کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دریائی کناروں سے پانی باہر نکل کر کھیتوں میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث کاشتکاروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ محنت سے تیار کی گئی فصلیں چند ہی گھنٹوں میں تباہ ہو گئیں، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
متاثرہ کاشتکاروں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصلوں کے نقصانات کا ہنگامی سروے کر کے متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مستقل اور مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
منگلا ڈیم بھرنے کے قریب، دریائے جہلم میں شدید سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید زرعی رقبہ زیرِ آب آ سکتا ہے، جس سے نہ صرف کاشتکاروں بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر فوری عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔
