دیامر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ نہ دیا ہوتا تو آج ملک کے مختلف شہروں میں ترقیاتی منصوبے، میٹرو بس سروسز اور اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبے ممکن نہ ہوتے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دیامر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ 2013 میں آصف علی زرداری کی حکومت کو ایک سازش کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت برقرار رہتی تو دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ آج مکمل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ دیے تھے، تاہم جماعت کو اس کا مکمل سیاسی فائدہ نہیں مل سکا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، جبکہ آصف علی زرداری نے ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی فلاح کے کئی اہم منصوبے شروع کیے۔ ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سی پیک جیسے منصوبے ملک کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صوبوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل ملنے سے ترقیاتی منصوبوں کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی شناخت کو مضبوط بنانے اور خطے کی ترقی کے لیے بھی پیپلز پارٹی نے اہم کردار ادا کیا۔
دیامر بھاشا ڈیم سے پانی تو ملے گا مگر سستی بجلی نہیں، اویس لغاری
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان کے پانی اور توانائی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلاول نے اپنے اتحادی وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مشہور رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرائیں۔
دوسری جانب ہنزہ میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ سیاسی عناصر عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آ کر اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نفرت اور تقسیم کے بجائے محبت، خدمت اور عوامی فلاح کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کی محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا تھا، جبکہ بلاول بھٹو اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
