کراچی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی بھرتیوں کے لیے جاری فزیکل اور اینڈورنس ٹیسٹ کے دوران نقالی اور جعلسازی کا ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایس ایس یو پولیس ہیڈکوارٹر ملیر میں تین افراد کو دوسرے امیدواروں کی جگہ امتحان دینے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق ٹیسٹ کے آغاز سے قبل دستاویزات کی جانچ کے دوران چند امیدواروں کی شناخت مشکوک محسوس ہوئی۔ مزید تصدیق اور تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ گرفتار افراد اصل امیدوار نہیں تھے بلکہ جعلی شناخت کے ذریعے امتحانی عمل میں شریک ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں بختیار ولد عالم، شمن علی ولد روشن اور امجد ولد محمد عرب شامل ہیں۔ یہ افراد بالترتیب سہینو خان، ہادی بخش اور آفتاب احمد کے نام استعمال کرتے ہوئے بھرتی کے مرحلے میں حصہ لے رہے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر دھوکا دہی کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کرنا چاہتے تھے، تاہم نگرانی کے مؤثر نظام اور بروقت کارروائی کے باعث ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جا کر جعلی پناہ اور شادی کی کوشش کرنے والا پاکستانی گرفتار
حکام نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس معاملے سے منسلک دیگر افراد اور ممکنہ نیٹ ورک کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ادارہ بھرتی کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے، جبکہ جعلسازی، نقالی اور دھوکا دہی کے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔
