شاہین آفریدی کے ٹیسٹ مستقبل پر سوالیہ نشان، ریڈ بال اسکواڈ سے مسلسل باہر رکھنے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئندہ ریڈ بال منصوبہ بندی کے تحت قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کی جانب سے اعلان کردہ تربیتی کیمپ میں شاہین کا نام صرف وائٹ بال کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ریڈ بال کیمپ کے لیے انہیں زیر غور نہیں لایا گیا۔

latest urdu news

پی سی بی نے مجموعی طور پر 49 کھلاڑیوں کو کیمپ کے لیے طلب کیا ہے، جن میں 22 کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ اور 27 کھلاڑی محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ وائٹ بال کیمپ کا آغاز 18 ستمبر سے ہوگا جبکہ ریڈ بال کیمپ 10 جولائی تک جاری رہے گا۔ متوقع دورۂ ویسٹ انڈیز کی تیاریوں کے لیے اضافی کیمپ 15 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق بورڈ کے فیصلہ ساز حلقوں نے شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم کے مستقبل کے منصوبوں میں شامل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فاسٹ بولر کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں محدود شرکت اور طویل فارمیٹ میں حالیہ کارکردگی تشویش کا باعث رہی ہے۔

26 سالہ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے دسمبر 2017 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ اپنے ٹیسٹ کیریئر میں وہ 34 میچوں میں 126 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، تاہم حالیہ دورۂ بنگلادیش کے دوران ان کی رفتار اور کارکردگی پر تنقید سامنے آئی تھی۔

آسٹریلیا سیریز کے لیے تیار ہیں، نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینا ضروری ہے: شاہین آفریدی

بنگلادیش کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں شاہین آفریدی خاطر خواہ اثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد اگلے میچ میں انہیں ٹیم سے باہر کر کے دوسرے فاسٹ بولر کو موقع دیا گیا۔ کرکٹ حلقوں کا ماننا ہے کہ ریڈ بال کرکٹ میں مسلسل شرکت کے بغیر ٹیسٹ سطح پر مطلوبہ معیار برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ نے مستقبل میں شاہین آفریدی کو وائٹ بال کرکٹ پر توجہ دینے کی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ٹیسٹ ٹیم کے لیے دیگر فاسٹ بولرز کو ترجیح دی جائے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter