فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہلی بار ”موڈسٹ فیشن ویک“ کا انعقاد کیا گیا، جہاں تقریباً 30 ڈیزائنرز نے ایسے ملبوسات پیش کیے جو باحیا فیشن کے تصور کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس ایونٹ میں ڈھیلے ڈھالے لباس، اسکارف اور مکمل کورج رکھنے والے اسٹائلز نمایاں رہے۔
اس فیشن شو میں دنیا بھر سے آئے ڈیزائنرز نے شرکت کی اور ایسے ملبوسات پیش کیے جو عموماً مسلم خواتین مذہبی اصولوں کے مطابق پہنتی ہیں۔ ان ڈیزائنز میں بازوؤں، ٹانگوں اور بعض صورتوں میں بالوں کو ڈھانپنے والے لباس شامل تھے، جنہیں جدید فیشن کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا تھا۔
منتظمین کے مطابق پیرس میں اس ایونٹ کا انعقاد خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ فرانس میں مذہبی لباس کے حوالے سے سخت سیکولر قوانین پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ اس پس منظر میں موڈسٹ فیشن ویک کو نہ صرف ایک ثقافتی پیش رفت بلکہ ایک علامتی اقدام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیشن شو شہر کے ایک تاریخی مقام پر منعقد ہوا جہاں رن وے پر پھولوں سے مزین ڈیزائن، بہتے ہوئے سلوئیٹس اور فطرت سے متاثر رنگوں کا حسین امتزاج پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید اسٹریٹ ویئر سے متاثر انداز بھی دیکھنے میں آئے، جو نوجوان نسل خصوصاً جنریشن زی کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس ایونٹ میں نائجیریا، ترکی، انڈونیشیا اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کے ڈیزائنرز نے اپنے منفرد کلیکشن پیش کیے۔ ان میں نرم اور رومانوی اسٹائلز کے ساتھ ساتھ اسپورٹی اور مضبوط انداز کے ملبوسات بھی شامل تھے۔
فیشن شو میں نعیمہ بٹ کی ریمپ واک پر سوشل میڈیا میں بحث، تعریف کے ساتھ تنقید بھی سامنے آگئی
ماہرین کے مطابق موڈسٹ فیشن کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اندازہ ہے کہ عالمی سطح پر اس پر اخراجات جلد ہی 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ اگرچہ یہ شعبہ ابتدا میں مسلم صارفین کے لیے مخصوص تھا، مگر اب مختلف مذاہب اور غیر مذہبی افراد میں بھی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
یہ ایونٹ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ فیشن اور ثقافت میں مسلم خواتین کی نمائندگی بڑھ رہی ہے، جبکہ کئی افراد کے نزدیک یہ فرانس جیسے معاشروں میں شمولیت اور قبولیت کی جانب ایک مثبت قدم ہے، اگرچہ بعض عوامی مقامات پر مذہبی لباس سے متعلق پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
