وفاقی بجٹ 2026-27 کے موقع پر اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب پیش قدمی سے روک دیا گیا اور پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا۔
مظاہرین نے سیکریٹریٹ چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ شروع کیا تھا، تاہم پولیس نے انہیں پی ٹی وی چوک کے مقام پر روک لیا۔ اس دوران شارع دستور اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور خاردار تاریں لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی پیش آئے۔ بعد ازاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں ماحول مزید تناؤ کا شکار ہو گیا۔
سیکیورٹی اقدامات کے باعث وفاقی وزیر خزانہ کو بھی متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا جبکہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر کی بڑی کارکردگی، 9 ماہ میں قومی خزانے میں 285 ارب روپے جمع
دوسری جانب ملازمین کی بڑی تعداد مختلف صوبوں سے اسلام آباد پہنچی اور احتجاجی کیمپ میں شرکت جاری رکھی۔ سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے باہر بھی دھرنا دے رہے تھے۔
مظاہرین کی نمائندہ تنظیم آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ملازمین نے اپنے مطالبات میں 10 مارچ 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد، تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ، اور پے اسکیل 2026 کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم اجرت 50 ہزار روپے مقرر کرنے، ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے، اور پنشن اصلاحات واپس لینے جیسے نکات بھی شامل ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر شہر کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام کی جانب سے مذاکرات اور انتظامی سطح پر حل نکالنے کی کوششوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
