وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اپنے بنیادی مقصد میں مؤثر ثابت نہیں ہوا اور اس کے نتائج پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مطابق پنجاب میں اس پروگرام کا ڈیٹا درست نہیں اور اس میں بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق شکایات موجود رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے غربت کے خاتمے میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صوبے کو یہ پروگرام جاری رکھنا ہے تو وہ اپنی صوابدید پر ایسا کر سکتا ہے، تاہم پنجاب کی حد تک اس کی افادیت نظر نہیں آتی۔ رانا ثناء اللہ نے اسے سماجی معاونت کا ایسا نظام قرار دیا جس کے نتائج ان کے مطابق مؤثر نہیں رہے۔
نوجوانوں سے حقِ رائے دہی واپس لینے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، رانا ثنااللہ
گفتگو کے دوران انہوں نے گلگت بلتستان کے سیاسی حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان تحریک انصاف اس وقت سیاسی عمل کے مرکزی دھارے سے باہر دکھائی دیتی ہے۔
اسی پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی ماحول یکساں نہیں اور ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لیے میدان برابر نہیں چھوڑا جاتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے ان کے تحفظات موجود ہیں۔
