تہران: ایران نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایئرپورٹ کو پہنچنے والا نقصان امریکی ساختہ فضائی دفاعی نظام "پیٹریاٹ” کی تکنیکی خرابی کے باعث ہوا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل کو نشانہ بنانے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایرانی میزائل کو روکنے کے لیے داغا گیا پیٹریاٹ دفاعی میزائل ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا اور واپس آ کر ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ واقعے کو ایرانی حملے سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے اور اس حوالے سے مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب کویتی حکام اور بعض بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون کو ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے باعث ٹرمینل میں آگ لگ گئی اور اس کے مختلف حصے شدید متاثر ہوئے۔
واقعے کے بعد کویت ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ متعدد پروازوں کا رخ متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک جبکہ 63 افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
کویت میں امریکی جنگی طیارہ تباہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں امریکی اقدامات کے ردعمل میں کی گئی تھیں۔
تاحال کویتی حکام نے ایرانی دعوے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
