امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے سفر کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو ممکنہ ہدف سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
فوجی حکام کے مطابق یہ پابندی صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں بلکہ تجارتی اور مال بردار بحری جہاز بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پابندی نافذ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں دو ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے جاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راستہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔
آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بحال کرنے کا اعلان، ٹرمپ نے ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں اور کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
