ایران کا دفاعی مؤقف: “ہم جنگ نہیں چاہتے، صرف اپنے جائز حق کا استعمال کر رہے ہیں”

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

latest urdu news

ایران کا بنیادی مؤقف: امن اور استحکام

صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کی پالیسی کا بنیادی نکتہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ میں اضافہ نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی نئے تنازع کا آغاز کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں بھی کسی جنگ کی ابتدا نہیں کی اور موجودہ صورتحال میں بھی اس کا رویہ دفاعی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی قوانین کے تحت ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اور ایران اسی اصول کے تحت اپنے اقدامات کر رہا ہے۔

جوہری حقوق اور عالمی تنازع

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی عالمی رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے بنیادی حقوق، خصوصاً جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے روکے۔

یہ مسئلہ طویل عرصے سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اختلاف کا سبب رہا ہے۔ ایران مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ بعض مغربی ممالک اس پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

حالیہ کشیدگی اور الزامات

صدر پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ حالیہ تنازعات کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان سے دشمن کے عزائم بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کا سخت بیان اور ایرانی ثقافت کا جواب: تاریخی مسجد کی ویڈیو منظرِ عام پر

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی تہذیب کو نقصان پہنچانے اور ملک کو پیچھے دھکیلنے جیسے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بعض عناصر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ان کے بقول، ایران نے ان تمام چیلنجز کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدمی دکھائی ہے۔

خطے کی صورتحال اور عالمی ردعمل

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے خطے میں جنگ بندی اور مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق، ایران کی جانب سے دفاعی مؤقف پر زور دینا ایک سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ تنازع کو بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنا چاہتا ہے۔

صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران خود کو ایک دفاعی پوزیشن میں پیش کر رہا ہے اور جنگ کے بجائے استحکام پر زور دے رہا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ بیانات نہ صرف داخلی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی ان کا اثر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ہر فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے مؤقف کو واضح کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter