معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوامی فلاحی پالیسیوں کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو زرداری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات عالمی اور قومی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں، ایسے حالات میں عوامی فلاح اور معاشی استحکام پر مبنی پالیسیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں قابلِ فخر ہیں۔

latest urdu news

اسکردو میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام سے ان کا دیرینہ تعلق ہے اور وہ ماضی میں بھی مختلف اضلاع کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باعث خطے میں سوگ اور تشویش کی فضا پائی جاتی ہے، جس کے پیش نظر انتخابی سرگرمیوں کے دوران بھی حساسیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے عالمی تنازعات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق جنگوں کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت اور عام شہری بھی اس کے نتائج بھگتتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ کمزور اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرتی آئی ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ملک کے غریب خاندانوں کے لیے ایک اہم سہارا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کو مزید مضبوط بنانے اور اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

گلگت بلتستان انتخابی مہم: بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کو 5 جون تک سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے حقوق، وسائل اور اختیارات کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کو اپنے وسائل پر زیادہ اختیار اور ترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ علاقے کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں اور ترقی کا عمل تیز ہو۔

انہوں نے سندھ حکومت کے مختلف فلاحی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے لاکھوں گھروں کی تعمیر، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے اقدامات عوامی خدمت کی مثال ہیں۔ ان کے مطابق ترقی کا اصل معیار وہی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

جلسے کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں اپنی رائے کا استعمال کرتے ہوئے ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو عوامی مسائل کے حل، روزگار کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter