امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے، اور واشنگٹن کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی امریکا اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت یا حملے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک نئے فوجی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کسی جامع معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ممکنہ ملاقات بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل میں آسانی پیدا ہوگی اور بین الاقوامی منڈیوں کو استحکام ملے گا۔
جنگ بندی کے باوجود لبنان میں خونریزی جاری، اسرائیلی حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد جاں بحق
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس تناظر میں لبنان کی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی نئے بحران سے بچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ولودیمیر زیلینسکی اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان براہِ راست ملاقات ہوتی ہے تو یہ تنازع کے حل اور امن کی کوششوں کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے پر وہ اپنے بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
