امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت بیان کے بعد ایک نئی سفارتی اور ثقافتی بحث نے جنم لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران یہ دھمکی دی تھی کہ وہ ایک رات میں ایرانی تہذیب کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس بیان کے ردعمل میں سویڈن میں ایرانی سفارتخانے نے ایک تاریخی مسجد کی ویڈیو جاری کی، جس کا مقصد ایران کے قدیم تہذیبی ورثے کو نمایاں کرنا تھا۔
اصفہان کی تاریخی مسجد
جاری کی گئی ویڈیو میں اصفہان میں واقع ایک خوبصورت اور تاریخی مسجد کو دکھایا گیا ہے، جو تقریباً چار سو سال قبل صفوی دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس مسجد کو اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے، جہاں نفیس ٹائل ورک، خوبصورت گنبد اور پیچیدہ نقش و نگار دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ مسجد نہ صرف اپنی ظاہری خوبصورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ اس کی ساخت میں صوتی (اکوسٹک) خصوصیات بھی غیر معمولی ہیں۔ اس دور میں جب لاؤڈ اسپیکر جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں، اس مسجد کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا کہ ایک مخصوص مقام پر کھڑے ہو کر دی جانے والی اذان یا نماز کی آواز پورے ہال میں واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔
حیران کن صوتی نظام
ویڈیو میں ایک دلچسپ مظاہرہ بھی دکھایا گیا، جس میں ایک شخص نے محض ایک کاغذ یا نوٹ کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اس کی آواز مسجد میں گونجتی ہوئی سنائی دی۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم معماروں نے کس قدر مہارت کے ساتھ عمارت کو اس انداز میں بنایا کہ معمولی سی آواز بھی دور تک پہنچ سکے۔
ماہرین کے مطابق، اس قسم کی صوتی ترتیب اس دور کی انجینئرنگ مہارت کا ثبوت ہے، جو آج کے جدید دور میں بھی حیران کن سمجھی جاتی ہے۔
سفارتی پیغام اور ثقافتی اہمیت
سویڈن میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے یہ ویڈیو جاری کرنا دراصل ایک ثقافتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ ایران صرف ایک سیاسی اکائی نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا حامل ملک ہے، جسے کسی ایک بیان یا دھمکی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، سفارتخانے نے ایک قدیم گرجا گھر کی ویڈیو بھی جاری کی، جسے پہلی صدی عیسوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس اقدام کو مذہبی ہم آہنگی اور تاریخی تنوع کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
Built in 1630 in Isfahan, Iran, this mosque is designed so that a speaker’s voice echoes throughout the space from a specific point.
If you stood at that point, what word(s) would you say, knowing it would be beautifully repeated by the ingenuity of Iranian architects? pic.twitter.com/3lz9rxH3Rk— Iran Embassy in Sweden (@IRANinSWEDEN) April 18, 2026
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید دور میں سفارتکاری صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا بھی ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایران کی جانب سے تاریخی مقامات کی ویڈیوز جاری کرنا ایک نرم مگر معنی خیز جواب کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے یہ پیغام دیا گیا کہ تہذیبیں محض طاقت سے نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ، فن اور علم سے تشکیل پاتی ہیں۔
