ایران کے سپریم لیڈر نے خصوصی رعایت دیتے ہوئے دو ہزار سے زائد قیدیوں کی سزاؤں میں معافی اور کمی کی منظوری دے دی، جس کے بعد بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق عام جرائم میں سزا پانے والے قیدیوں پر ہوگا، تاہم جاسوسی، قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں اور حساس نوعیت کے مقدمات میں ملوث افراد اس رعایت سے مستثنیٰ رہیں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق معافی ملنے والے بیشتر قیدیوں کو فوری طور پر جیلوں سے رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر افراد کی سزاؤں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
ایران میں سپریم لیڈر کی حمایت میں بڑے مظاہرے، تہران اور صنعا میں ریلیاں
رپورٹس کے مطابق قیدیوں کی سزاؤں میں نرمی اور معافی کی سفارش ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے کی تھی، جسے سپریم لیڈر کی منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام ایران میں عدالتی اور سماجی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
