سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے ملکی معاشی صورتحال اور سودی نظام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں سود کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، تاہم پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔
اپنی تقریر کے دوران دنیش کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی وسائل کا بڑا حصہ سودی واجبات کی ادائیگی پر خرچ ہونے سے ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے قرآنِ مجید کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے سود کے خلاف اسلامی تعلیمات کا ذکر بھی کیا۔
سینیٹر نے سرحدی علاقوں میں پیٹرول کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے پیٹرول لانے والے افراد سخت حالات اور خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور اکثر یہ سرگرمی معاشی مجبوریوں کے باعث اختیار کی جاتی ہے۔
چیئرمین سینیٹ کے لیے سرکاری خزانے سے تقریباً 9 کروڑ روپے مالیت کی گاڑی خریدنے کا انکشاف
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایران سے پیٹرول کی درآمد کے لیے قانونی اور باقاعدہ طریقہ کار متعارف کرایا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں اور غیرقانونی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
اپنی تقریر کے اختتام پر دنیش کمار نے ملکی اور عالمی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ سید عاصم منیر کی قیادت نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
