میر رضا کیس کے بعد کراچی پولیس کے تفتیشی عمل اور میڈیکو لیگل نظام کی کارکردگی ایک بار پھر زیر بحث آ گئی ہے، جہاں فارنزک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات کے طریقہ کار پر مختلف سوالات سامنے آ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کیس میں سامنے آنے والی صورتحال نے کراچی کے فارنزک نظام کی خامیوں کو نمایاں کیا ہے، جبکہ پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کے درمیان ذمہ داری کے تعین پر اختلافات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پولیس سرجن کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف ایک رپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے تحقیقاتی نظام پر سوال اٹھتے ہیں، جس میں جائے وقوعہ کا معائنہ، پولیس تفتیش، میڈیکو لیگل افسران اور پراسیکیوشن کا کردار شامل ہے۔
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس کے تین ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
پولیس سرجن کے اعتراضات کے بعد سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور معیار پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیکو لیگل نظام کی نگرانی کرنے والے افسران کی اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
کراچی پولیس چیف نے بھی تحقیقات کے دوران سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیاں تھیں تو اسے دو روز تک روکا کیوں گیا؟ رپورٹ درستگی کے لیے متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کو واپس کیوں نہیں بھیجی گئی اور لاش کا دوبارہ معائنہ کیوں نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تحقیقات کے عمل میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
