سنگاپور اور نیویارک کے درمیان چلنے والی پرواز کو دنیا کا طویل ترین تجارتی نان اسٹاپ فضائی سفر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ روٹ دو بڑے عالمی مالیاتی اور تجارتی مراکز کو براہِ راست جوڑتا ہے، جس کی وجہ سے اسے بین الاقوامی ہوابازی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
پرواز کا روٹ اور دورانیہ
سنگاپور ایئر لائنز کی پرواز Singapore Airlines Flight SQ22/SQ23 سنگاپور سے نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک جاتی ہے، جبکہ واپسی کی پرواز نیویارک سے سنگاپور روانہ ہوتی ہے۔
یہ پرواز تقریباً 15,349 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے اور اوسطاً 18 سے 19 گھنٹے کے درمیان مسلسل فضائی سفر پر مشتمل ہوتی ہے۔ بعض اوقات موسمی حالات اور ہوائی راستوں کے مطابق اس کا دورانیہ قدرے کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
استعمال ہونے والا جدید طیارہ
اس طویل روٹ کے لیے سنگاپور ایئر لائن ایک خصوصی طیارہ استعمال کرتی ہے، جو طویل فاصلے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Airbus A350-900ULR اس پرواز میں استعمال ہونے والا جدید ترین طیارہ ہے، جسے خاص طور پر الٹرا لانگ رینج سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس طیارے میں عام اکانومی کلاس شامل نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ آرام دہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے، جس میں:
- بزنس کلاس سیٹیں
- پریمیئم اکانومی سیٹیں
شامل ہیں تاکہ مسافروں کو طویل سفر کے دوران زیادہ آرام فراہم کیا جا سکے۔
The longest flight in the world.
Singapore Airlines Flight SQ23, from New York to Singapore.
Over 9,500 miles and nearly 19 hours of flying. pic.twitter.com/n6U8tsHPam
— Colin McCarthy (@US_Stormwatch) May 9, 2026
سفر کا راستہ اور جغرافیائی اہمیت
یہ پرواز شمالی بحرالکاہل کے اوپر سے گزرتی ہوئی شمالی امریکہ تک پہنچتی ہے۔ اس دوران یہ مختلف موسمی اور فضائی زونز سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا روٹ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت طے کیا جاتا ہے۔
طویل پروازوں کا بڑھتا رجحان
حالیہ برسوں میں ایوی ایشن انڈسٹری میں “الٹرا لانگ ہول” پروازوں کا رجحان بڑھا ہے۔ اس کا مقصد براہِ راست شہروں کو جوڑ کر سفر کا وقت کم کرنا اور مسافروں کو کنیکٹنگ فلائٹس کے جھنجھٹ سے بچانا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی میں بہتری اور ایندھن کی مؤثر کھپت نے ایسی طویل پروازوں کو ممکن بنایا ہے، جو پہلے تکنیکی طور پر مشکل سمجھی جاتی تھیں۔
سنگاپور سے نیویارک کی یہ نان اسٹاپ پرواز جدید ہوابازی کی ایک بڑی مثال ہے، جو نہ صرف فاصلوں کو سمیٹتی ہے بلکہ عالمی شہروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ یہ سفر اس بات کی علامت ہے کہ جدید طیارہ سازی اور ایوی ایشن ٹیکنالوجی کس حد تک ترقی کر چکی ہے۔
