خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں 5 افراد شہید جبکہ 15 دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
کبل پولیس اسٹیشن کے باہر زور دار دھماکا
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب زور دار دھماکا اس وقت ہوا جب کبل چوک میں مقامی نوجوانوں کا احتجاج جاری تھا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
شہدا اور زخمیوں کی تعداد
اسسٹنٹ کمشنر کبل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق دھماکے میں 5 افراد شہید جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں بہتر علاج کے لیے بڑے طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔
خودکش حملے کا شبہ
ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو بروقت روک لیا، جس کے بعد اس نے پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکام کے مطابق اسی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور پولیس اسٹیشن کے اندر داخل نہ ہو سکا، جس سے ممکنہ طور پر مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
اہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں
ڈی پی او سوات محمد عمر کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔
فرانزک ماہرین اور بم ڈسپوزل یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت، استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد اور حملہ آور کی شناخت کا تعین کیا جا سکے۔
تحقیقات اور سیکیورٹی اقدامات
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ پولیس اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔ مزید شواہد اور فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں باضابطہ معلومات جاری کی جائیں گی۔
