اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے آزاد کشمیر سے متعلق بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں راولاکوٹ کے عوام کی توہین نہیں کی گئی بلکہ ان سے قربت اور اپنائیت کا اظہار کیا گیا تھا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خواجہ آصف کے بیان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وزیر دفاع صرف یہ کہنا چاہتے تھے کہ راولاکوٹ کے عوام جغرافیائی اور سماجی اعتبار سے پنجاب کے زیادہ قریب ہیں، جسے غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے خواجہ آصف کے بیان کو مختلف انداز میں لیا اور اسے اپنا سیاسی مؤقف بنا لیا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وہ خواجہ آصف کے بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس میں کوئی نامناسب بات نہیں تھی۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون حکومت کے مؤثر انداز میں چلنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق دونوں جماعتوں کو موجودہ سیاسی حالات میں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ نظام بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات شفاف تھے اور مسلم لیگ (ن) کے لیے حکومت بنانا مشکل نہیں تھا، تاہم پارٹی قیادت نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ طے شدہ فارمولے کے تحت گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر کے بعض عہدوں پر اتفاق کیا گیا تھا۔
خواجہ آصف کی اپوزیشن کو میثاقِ جمہوریت کی دعوت، تحریک انصاف پر سخت تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال کی ذمہ داری تمام سیاسی قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر چوہدری انوار الحق کی حکومت کے بعد بروقت انتخابات کروا دیے جاتے تو شاید آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
رانا ثناء اللہ نے مذاکرات، بلدیاتی انتخابات اور اپوزیشن سے روابط کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اپوزیشن آمادہ ہو تو ایک یا دو دن میں وزیراعظم سے ملاقات بھی کرائی جا سکتی ہے، جبکہ 2018 اور 2024 کے انتخابات کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کے قیام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
