وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ اعلیٰ چینی قیادت، کاروباری شخصیات اور حکومتی نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی، سفارتی اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم اپنے دورۂ چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچیں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ 26 مئی تک جاری رہے گا، جس کے دوران وزیراعظم مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ہانگژو میں ژجیانگ صوبے کے پارٹی سیکرٹری سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے امور پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق چین نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی اور چینی وفود سی پیک فیز ٹو کے تحت تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے مختلف تقریبات، بزنس فورمز اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلوں میں بھی شریک ہوں گے۔
امریکا اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پرامید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور جدید ٹیکنالوجی و زرعی ترقی سے متعلق اداروں کا دورہ بھی کریں گے، جن میں چینی کمپنیوں کے ہیڈکوارٹرز اور چائنہ اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز شامل ہیں۔
بعد ازاں وزیراعظم بیجنگ جائیں گے جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں طے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
