کراچی: میر رضا کیس میں نئی پیش رفت، موبائل ڈیٹا اور فارنزک رپورٹ تفتیشی حکام کو موصول

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تفتیش جاری، موبائل ریکارڈ میں مالی مشکلات اور متعدد پیغامات کا انکشاف، حکام کا کہنا ہے کہ موت خودکشی تھی یا قتل، تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

latest urdu news

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پراسرار موت کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام نے میر رضا کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ اور فارنزک رپورٹ حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کیس کے مختلف پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا اور تحقیقات بدستور جاری ہیں۔

موبائل ڈیٹا میں مالی مشکلات کے شواہد

تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو پیغام بھیجا تھا، جس میں انہوں نے 3 کروڑ روپے بطور قرض مانگتے ہوئے کہا کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں فوری طور پر رقم کی ضرورت ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موبائل ریکارڈ سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کے قرض دار تھے، جس کے باعث ان پر مالی دباؤ موجود تھا۔ تاہم تفتیش کار اس پہلو کو دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر جانچ رہے ہیں تاکہ کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔

منگیتر کے متعدد پیغامات، مگر کوئی جواب نہیں ملا

تحقیقات کے مطابق میر رضا کی منگیتر نے رات 3 بج کر 10 منٹ سے 3 بج کر 50 منٹ کے درمیان انہیں مسلسل پیغامات بھیجے، لیکن میر رضا کی جانب سے کسی بھی پیغام کا جواب نہیں دیا گیا۔

تفتیشی حکام اس مواصلاتی ریکارڈ کو بھی تحقیقات کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں تاکہ واقعے سے قبل کے حالات اور میر رضا کی ذہنی کیفیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

کراچی: میر رضا علی خان کیس میں نئی پیش رفت، ہلاکت سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

میڈیکل رپورٹ تاحال مکمل نہیں، خاندان کے تحفظات برقرار

حکام کے مطابق میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، جبکہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بیان کی گئی ہے۔

دوسری جانب میر رضا کے اہلِ خانہ ابتدائی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات بھی موجود تھے، جنہیں مزید جانچنے کی ضرورت ہے۔

تفتیشی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر اہلِ خانہ دوبارہ میڈیکل معائنے یا پوسٹ مارٹم کی درخواست کرتے ہیں تو قانون کے مطابق اس پر بھی غور کیا جائے گا۔

15 افراد کے بیانات قلم بند

تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 15 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور وہ شخص بھی شامل ہے جس نے سب سے پہلے لاش کی اطلاع دی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تمام گواہوں کے بیانات، موبائل فون کے فارنزک شواہد، میڈیکل رپورٹس اور دیگر دستیاب ثبوتوں کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تفتیش ہر زاویے سے جاری

تفتیشی حکام کے مطابق اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میر رضا کی موت خودکشی کا نتیجہ تھی یا قتل۔ اسی لیے تحقیقات کو ہر ممکن زاویے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور شواہد کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید پیش رفت فارنزک تجزیے، مکمل میڈیکل رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا رہا۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter