خواجہ آصف کی اپوزیشن کو میثاقِ جمہوریت کی دعوت، تحریک انصاف پر سخت تنقید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو میثاقِ جمہوریت کی طرز پر نئے سیاسی اتفاقِ رائے کی دعوت دی اور کہا کہ ملک میں جمہوری استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

latest urdu news

انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے حوالے سے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابل احترام سیاسی شخصیت ہیں، تاہم تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان ان کی موجودگی غیر معمولی محسوس ہوتی ہے۔

میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر زور

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف جماعتوں سے غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان غلطیوں سے سبق سیکھا جائے۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ماضی کے سیاسی اختلافات کے باوجود میثاقِ جمہوریت کے ذریعے سیاسی مفاہمت کی راہ اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی کی سیاست اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔

بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا حوالہ

وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں ماضی کی سیاسی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایوان میں شدید تنازعات اور تلخیاں دیکھنے میں آتی تھیں، تاہم بعد ازاں شہید بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان میثاقِ جمہوریت طے پایا، جس سے سیاسی ماحول میں بہتری آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی قیادت کو بھی اسی طرزِ فکر کو اپنانا چاہیے تاکہ قومی مسائل کے حل کے لیے مثبت سیاسی ماحول پیدا کیا جا سکے۔

تحریک انصاف پر تنقید

خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی اور طرزِ سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پارلیمانی سیاست اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچایا۔

مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، خواجہ آصف

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں سیاسی ماحول ایسا تھا کہ بعض اراکین اسمبلی مخالف جماعتوں کے ارکان سے کھل کر بات کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر داخلی جمہوریت کا مضبوط ہونا ضروری ہے، کیونکہ صرف ایک فرد کے گرد گھومنے والی سیاست دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔

محمود خان اچکزئی سے متعلق ریمارکس

وزیر دفاع نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر اور تجربہ کار سیاست دان ہیں، تاہم تحریک انصاف کے سیاسی حلقے میں ان کی موجودگی غیر متوقع محسوس ہوتی ہے۔

ان کے اس بیان پر ایوان میں مختلف ردعمل بھی سامنے آئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ذاتی تنقید نہیں بلکہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرنا تھا۔

پارلیمانی روایات کے فروغ کی ضرورت

خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ پارلیمان کے وقار اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایوان کا تقدس برقرار رکھنا ہر منتخب نمائندے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والی یہ بحث ایک بار پھر ملک میں سیاسی مکالمے، جمہوری روایات اور بین الجماعتی تعلقات کے موضوع کو نمایاں کر رہی ہے، جبکہ مختلف جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور تعاون کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter