ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ممکنہ احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
دفعہ 144 کے تحت پابندیاں
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماع، احتجاج، ریلی یا مظاہرہ غیر قانونی تصور ہوگا۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر مجاز اجتماع کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ احتجاج یا ہجوم کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عام طور پر دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کی وہ شق ہے جس کے تحت چار یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، تاکہ امن عامہ کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔
امریکی سفارتخانے کا بیان
دوسری جانب امریکی سفارتخانہ اسلام آباد نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں کے باہر ہونے والے مظاہروں کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد میں سفارتخانے اور پشاور میں قونصل خانے کے حوالے سے ممکنہ احتجاجی کالز کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
کراچی: امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کے احتجاج میں 9 افراد جاں بحق
سفارتخانے نے پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حالات سے باخبر رہیں، سیکیورٹی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہجوم یا احتجاجی مقام پر جانے سے گریز کریں۔
پس منظر اور مجموعی صورتحال
کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر حالیہ جھڑپوں اور جانی نقصان کے بعد سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی ممکنہ تصادم یا بدامنی سے بچا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور افواہوں سے گریز کرتے ہوئے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
