پاکستان کو توانائی قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے کا مشورہ، آئی ایم ایف کا اصلاحات پر زور

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ملک میں پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق برقرار رکھا جائے، جبکہ کمزور اور مستحق طبقے کے تحفظ کے لیے ہدفی امدادی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

latest urdu news

یہ بیان پاکستان کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی قسطوں کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں معاشی اصلاحات اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔

توانائی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں موجود مالی خسارے اور غیر مؤثر نظام کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھنی ہوں گی۔ ادارے نے کہا کہ سرکاری اداروں میں شفافیت بڑھانا، بدعنوانی کے تدارک کے اقدامات مضبوط کرنا، اور غیر ضروری ضوابط کو کم کرنا معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ توانائی کی قیمتوں میں بار بار سبسڈی یا مصنوعی کمی طویل مدت میں مالی دباؤ بڑھاتی ہے، اس لیے قیمتوں کو اصل لاگت سے جوڑنا ناگزیر ہے۔

کمزور طبقے کے تحفظ پر زور

آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے باوجود حکومت کو کم آمدنی والے اور کمزور طبقے کے لیے ہدفی مالی امداد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اصلاحات کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر بوجھ نہ بنیں۔

معاشی پیشگوئیاں اور اہداف

ادارے کے تخمینوں کے مطابق:

  • مالی سال 2027 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے
  • افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک جا سکتا ہے
  • جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے
  • 2026 میں بنیادی بجٹ سرپلس جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر رہ سکتا ہے

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کو آئندہ برسوں میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے سخت پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔

اصلاحاتی پروگرام اور مالی معاونت

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا 37 ماہ پر مشتمل اصلاحاتی پروگرام Extended Fund Facility (EFF) 2024 میں منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری کا امکان، آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی کو طلب

اسی کے ساتھ Resilience and Sustainability Facility (RSF) کے تحت بھی اصلاحاتی اقدامات کی نگرانی جاری ہے۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

پائیدار ترقی کے لیے شرائط

آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو:

  • سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی
  • توانائی کے شعبے میں مالی خسارہ کم کرنا ہوگا
  • پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ کرنا ہوگا
  • سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا

مجموعی طور پر آئی ایم ایف کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی معاشی بہتری کا انحصار سخت اصلاحات، شفاف مالی نظم و نسق اور توانائی کے شعبے میں دیرپا استحکام پر ہے۔ تاہم ساتھ ہی کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی معاشی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter