برطانوی جنگی جہاز خلیجِ عرب سے واپس، ڈرون اور بغیر عملے کی کشتیوں سے نگرانی کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ نے خلیجِ عرب سے اپنے جنگی جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئندہ سمندری نگرانی بغیر عملے والی کشتیوں اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

latest urdu news

اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق Royal Navy نے خطے میں مستقل جنگی جہازوں کی موجودگی ختم کرتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ تاہم بحرین میں قائم برطانوی فوجی ہیڈکوارٹر بدستور فعال رہے گا۔

اطلاعات کے مطابق 1980 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب خلیجِ عرب میں کوئی برطانوی جنگی جہاز مستقل طور پر تعینات نہیں ہوگا۔ آخری مائن سوئیپر بھی مارچ میں بحرین سے روانہ ہو جائے گا، جبکہ ایک فریگیٹ گزشتہ برس کے اختتام پر واپس بلایا جا چکا ہے۔

امریکا کا دوسرا طیارہ بردار جہاز جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دفاعی بجٹ میں کمی اور بحری بیڑے کو درپیش وسائل کی محدودیت اس فیصلے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت خودکار کشتیوں اور ڈرونز کے ذریعے سمندری راستوں کی نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ خطے میں سیکیورٹی تعاون برقرار رہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter