دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی: بھارت کی آبی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

دریائے چناب میں پانی کی آمد میں اچانک اور بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں آبی صورتحال اور بالائی علاقوں سے پانی کے بہاؤ پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ واپڈا کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران پانی کی مقدار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

latest urdu news

ہیڈ مرالہ پر پانی کی صورتحال

واپڈا کے مطابق دریائے چناب کے اہم مقام ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد صرف 9 ہزار کیوسک رہ گئی ہے، جبکہ اسی مقام پر پانی کا اخراج تقریباً 1100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ کمی گزشتہ دنوں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ایک روز قبل اسی مقام پر پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی، جو کہ موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً 11 ہزار 900 کیوسک زیادہ ہے۔

چند دنوں کا تقابلی جائزہ

واپڈا کے ریکارڈ کے مطابق:

  • یکم مئی کو پانی کی آمد: 20 ہزار 900 کیوسک
  • 30 اپریل کو پانی کی آمد: 25 ہزار 200 کیوسک
  • 30 اپریل کو پانی کا اخراج: 17 ہزار 400 کیوسک

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چند دنوں کے اندر دریائے چناب کے بہاؤ میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

دریائے چناب پر بھارتی منصوبہ، سندھ طاس معاہدے کی ایک اور سنگین خلاف ورزی

آبی صورتحال اور خدشات

پانی کے بہاؤ میں اس طرح کی کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں آبی وسائل پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ اکثر موسمی تبدیلیوں، برف پگھلنے کی رفتار اور بالائی علاقوں میں پانی کے انتظام سے جڑا ہوتا ہے۔

تاہم سرکاری حلقے بعض اوقات ایسے اعدادوشمار کو آبی انتظامی پالیسیوں اور ہمسایہ ممالک کے پانی کے استعمال کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔

وسیع تناظر

پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کا معاملہ طویل عرصے سے اہم موضوع رہا ہے، جس میں سندھ طاس معاہدہ بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی کے استعمال اور بہاؤ سے متعلق قواعد موجود ہیں، تاہم عملی سطح پر پانی کی مقدار میں تبدیلیاں اکثر تشویش کا باعث بنتی ہیں۔

دریائے چناب میں پانی کی موجودہ کمی ایک اہم آبی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی کے بہتر انتظام، ڈیٹا شیئرنگ اور علاقائی تعاون ہی ایسے مسائل کے حل میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter