پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑا قدم: سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس متعارف کرانے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب کی سینیئر ایڈوائزر سینیٹر انوشہ رحمان نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کو فروغ دینے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں روایتی براڈ بینڈ یا موبائل انٹرنیٹ کی سہولیات محدود یا دستیاب نہیں۔

latest urdu news

لیڈرشپ سمٹ میں اہم اعلان

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انوشہ رحمان نے اس منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔ سمٹ کے دوران بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسے جدید موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مستقبل کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہے، تاکہ ڈیجیٹل خلا (Digital Divide) کو کم کیا جا سکے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ: ہر علاقے تک رسائی

انوشہ رحمان کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گاؤں، اسکول، کالج اور اسپتال تک انٹرنیٹ کی رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زمینی انفرااسٹرکچر پر کم انحصار کرتی ہے، جس کے باعث دشوار گزار یا دور افتادہ علاقوں میں بھی باآسانی خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

عالمی سطح پر بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے کے لیے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانا مشکل یا مہنگا ہو۔

“کنیکٹ دی اَن کنیکٹڈ” مشن کا آغاز

سینیٹر انوشہ رحمان نے بتایا کہ پنجاب میں “کنیکٹ دی اَن کنیکٹڈ” کے نام سے ایک جامع مشن شروع کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد اور علاقوں کو ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑنا ہے جو اب تک اس سہولت سے محروم ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان تو موجود ہے، لیکن مناسب سہولیات کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے یہ منصوبہ دور کرنے میں مدد دے گا۔

اسٹار لنک کی سروسز نومبر دسمبر سے پاکستان میں دستیاب ہوں گی، شزہ فاطمہ

سرکاری شعبے میں جلد آغاز اور نوجوانوں پر فوکس

انہوں نے اعلان کیا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی کا آغاز جلد سرکاری شعبے سے کیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی جدید کنیکٹیویٹی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ چار برسوں میں 60 لاکھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

یہ اقدام نہ صرف تعلیم، صحت اور گورننس کے شعبوں میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ فری لانسنگ، ای کامرس اور آئی ٹی ایکسپورٹس کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش رفت

مجموعی طور پر یہ منصوبہ پنجاب کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اگر اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف شہری و دیہی علاقوں کے درمیان فرق کم کرے گا بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter