سعودی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے پاکستان میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تکمیل کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں، ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور تہران کے جوہری پروگرام سمیت متعدد اہم معاملات زیرِ غور آنے کی توقع ہے۔
سعودی میڈیا کی رپورٹ
سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ 11 جولائی سے پاکستان میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے ایک بار پھر آگے بڑھ رہے ہیں اور اہم معاملات پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم خبر میں مذاکرات کے مجوزہ مقام یا میزبان انتظامات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ پاکستان، ایران یا امریکا کی حکومتوں کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔
کن امور پر بات چیت متوقع ہے؟
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی، ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اہم ایجنڈا ہوں گے۔
ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے انہی موضوعات پر اختلافات موجود ہیں، جبکہ مختلف ادوار میں بالواسطہ اور بلاواسطہ مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کے حل کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔
دوحہ مذاکرات کا حوالہ
العربیہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بلاواسطہ مذاکرات ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر Donald Trump نے ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذاکرات کے دوران اس کے منجمد اثاثوں میں سے چند ارب ڈالر بحال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
امریکی مؤقف
سعودی میڈیا کے مطابق ایران کے اس دعوے کے بعد امریکی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق ایسی کسی مفاہمت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
اس معاملے پر دونوں ممالک کے بیانات میں فرق برقرار ہے، جس کے باعث مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ابھی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
ایران اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی اور منجمد اثاثوں جیسے معاملات دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات کا سبب رہے ہیں۔ مختلف اوقات میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا ہے، تاہم اب تک کسی جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
مذاکرات کے پاکستان میں انعقاد سے متعلق دعوے کی تاحال متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے اس پیش رفت کو فی الحال میڈیا رپورٹس کی حد تک ہی دیکھا جا رہا ہے۔
