ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: اگر چاہتے تو آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں موجود تمام افراد کو نشانہ بنا سکتے تھے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا چاہتا تو ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی نمازِ جنازہ میں شریک تمام افراد کو نشانہ بنا سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہیں رہتا۔

latest urdu news

ایرانی عوام کے ردعمل پر ٹرمپ کا اظہارِ حیرت

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران عوام کی بڑی تعداد اور ان کے جذباتی اظہار کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

ان کے مطابق انہیں یہ تاثر تھا کہ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈر سے نفرت کرتے ہیں، تاہم جنازے میں شریک لوگوں کو روتے اور غم کا اظہار کرتے دیکھ کر ان کی یہ رائے تبدیل ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ عوامی شرکت اور جذباتی مناظر ان کی توقعات سے مختلف تھے۔

جنازے سے متعلق متنازع بیان

ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس اس موقع پر طاقت کے استعمال کی صلاحیت موجود تھی، لیکن ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان کے بقول اگر جنازے میں موجود تمام افراد کو نشانہ بنایا جاتا تو بعد میں مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہ رہتا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی اور سفارتی معاملات پر اختلافات رکھتے ہیں۔ تاہم دونوں جانب سے سفارتی رابطوں کے امکانات بھی وقتاً فوقتاً زیر بحث آتے رہے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کا اظہار تعزیت

مذاکرات میں عارضی وقفہ

امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ ایران اور امریکا نے باہمی اتفاق سے جاری مذاکرات میں عارضی وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس وقفے کی مدت، آئندہ مذاکرات کے شیڈول یا اس فیصلے کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق معاملات کے باعث تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ اس دوران متعدد ادوار میں مذاکرات، پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حالیہ بیان بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بیان بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter