ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر مزید محفوظ بنا دیے، زیرِ زمین تنصیبات تک رسائی مشکل ہونے کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے بعض زیرِ زمین جوہری تنصیبات کے داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے جبکہ ان تک پہنچنے والے راستوں پر بارودی سرنگیں بھی نصب کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں ان مقامات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔

latest urdu news

امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں زیرِ زمین سرنگوں کو منہدم کرنا، داخلی راستوں کو بند کرنا اور حساس مقامات کے اطراف اضافی حفاظتی انتظامات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ بیرونی کارروائی یا مداخلت کی صورت میں جوہری مواد کو محفوظ رکھنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ وقت طلب، پیچیدہ اور خطرناک بن چکی ہے۔

اصفہان جوہری تنصیب پر توجہ مرکوز

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان سرنگوں کا کچھ حصہ پہلے ہی نقصان کا شکار یا منہدم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہاں موجود مواد تک رسائی مزید دشوار ہو گئی ہے۔

ایران کے افزودہ یورینیم پر امریکی مؤقف میں نرمی، ٹرمپ کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی

ماہرین کے مطابق ایران نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنے جوہری پروگرام کے اہم حصوں کو زیرِ زمین منتقل کیا ہے تاکہ انہیں فضائی حملوں یا دیگر فوجی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی بعض جوہری تنصیبات دنیا کی محفوظ ترین تنصیبات میں شمار کی جاتی ہیں۔

امریکی کارروائی کا منصوبہ مؤخر ہونے کی اطلاعات

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی کے وسط میں امریکی فوج ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ایک ممکنہ آپریشن پر غور کر رہی تھی۔ تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد ایران نے اپنے حساس مقامات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے۔

اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث جوہری تنصیبات کی سلامتی ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ ممالک کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter