امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کی حوالگی کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی ظاہر کی ہے، جس کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ افزودہ یورینیم کو یا تو فوری طور پر امریکا کے حوالے کیا جائے تاکہ اسے محفوظ طریقے سے منتقل کر کے تلف کیا جا سکے، یا پھر ایران کے ساتھ باہمی تعاون کے تحت اسی مقام پر یا کسی متفقہ جگہ پر اسے تباہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کی نگرانی امریکی ایٹمی توانائی کمیشن یا کسی مساوی بین الاقوامی ادارے کی موجودگی میں کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے
اس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے حوالے سے امریکا سے معاہدے کے قریب ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد ایک ایسا فریم ورک تیار کرنا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔
امریکا۔ایران کشیدگی میں پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی توجہ، ترک میڈیا نے اہم نکات اجاگر کر دیے
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجوزہ معاہدے میں یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو محفوظ اور کنٹرول شدہ طریقے سے نمٹایا جائے۔
“تسلی بخش حل” پر زور
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف اسی معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں امریکا کے مفادات کا مکمل تحفظ ہو۔ ان کے مطابق کسی بھی معاہدے میں یہ شرط شامل ہونی چاہیے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام حساس مواد کو “تسلی بخش انداز” میں کنٹرول کیا جائے۔
ایران۔امریکا کشیدگی میں نیا موڑ
تجزیہ کاروں کے مطابق افزودہ یورینیم جیسے حساس معاملے پر بیانات میں نرمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات کسی پیش رفت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں حتمی اتفاق رائے تک پہنچنا ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہوتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلافات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور عالمی برادری اس مسئلے کو خطے کے امن کے لیے انتہائی اہم سمجھتی ہے۔
