ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران اس کے فضائی دفاعی نظام نے اسرائیل کے جدید جاسوس ڈرونز کو نشانہ بنایا، جن میں “ہرمیز 900” ڈرونز بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق نہ صرف کئی ڈرونز تباہ کیے گئے بلکہ ایک ڈرون کو تقریباً مکمل حالت میں قبضے میں بھی لے لیا گیا۔
ڈرونز کی کارروائی اور ایران کا مؤقف
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اسرائیلی ڈرونز ایرانی فضائی حدود میں انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور فوجی معلومات حاصل کرنے کے مشن پر داخل ہوئے تھے۔ تاہم ایران کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان میں سے متعدد ڈرونز کو مار گرایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں جدید اسرائیلی “ہرمیز 900” ڈرونز بھی شامل تھے، جو اپنے مشن مکمل کرنے میں ناکام رہے۔
ہرمیز 900 ڈرون کی خصوصیات
رپورٹ کے مطابق “ہرمیز 900” ایک جدید ملٹی رول جاسوس ڈرون ہے جو بنیادی طور پر نگرانی، انٹیلیجنس اور اسٹریٹجک معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی آپریشنل رینج ایک ہزار کلومیٹر سے زائد بتائی جاتی ہے، جبکہ سیٹلائٹ لنک کے ذریعے اس کی رینج مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔
یہ ڈرون جدید فوجی ٹیکنالوجی سے لیس سمجھا جاتا ہے اور اسے مختلف قسم کے مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایران کا دفاعی مؤقف: “ہم جنگ نہیں چاہتے، صرف اپنے جائز حق کا استعمال کر رہے ہیں”
ایران کا دعویٰ اور قبضے کی تفصیل
ایرانی حکام کے مطابق ایک “ہرمیز 900” ڈرون کو تقریباً مکمل اور قابل استعمال حالت میں قبضے میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈرون کے کئی پرزے ابھی بھی فعال حالت میں ہیں، جن کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے جنگ کے دوران نہ صرف نگرانی بلکہ دفاعی حکمت عملی کے تحت بھی مؤثر کردار ادا کیا۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، جس میں خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور فضائی سرگرمیوں کے الزامات شامل رہے ہیں۔ اس طرح کے دعوے دونوں ممالک کے درمیان موجود تناؤ کو مزید واضح کرتے ہیں۔
ایران کا یہ دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی اور تکنیکی رقابت کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
