سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی بجٹ اور ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اصلاحات اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، سرمایہ کاری کا فروغ بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار صرف اسی ماحول میں اعتماد کرتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل اور قانون کی حکمرانی موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے وسائل سے زیادہ اخراجات کر رہی ہے اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل قرضوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قومی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث حکومتی مالی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔
سابق وزیراعظم نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات کم جبکہ انتظامی اور پنشن کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے مالی دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر گرما گرم بحث، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق معاشی بحران سے نکلنے کے لیے حکمرانی کے نظام، ریاستی اداروں اور انتخابی عمل میں بہتری لانا ہوگی تاکہ عوام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنے کے لیے آمدن میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر معاشی مشکلات مزید گہری ہو سکتی ہیں۔
