قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ مہنگائی، ٹیکس پالیسی، غربت، بے روزگاری اور معاشی صورتحال ایوان میں زیر بحث رہی۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کے بجائے مراعات یافتہ طبقے کو ریلیف دیا ہے۔ انہوں نے غربت کے سرکاری پیمانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک سموسہ 40 روپے کا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار میں ایک نوجوان کی یومیہ ضروریات کی مالیت 32 روپے ظاہر کی جا رہی ہے، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اپوزیشن ارکان نے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کو بجٹ کی بڑی کمزوریاں قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور سیاسی معاملات پر شدید تنقید کی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں سہولیات اور ملاقاتوں کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا گیا۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ معاشی حالات میں متوازن قرار دیا۔ رکن قومی اسمبلی جمال خان کاکڑ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا اور بلوچستان کے لیے مزید ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مشکل معاشی حالات میں حکومت سنبھالی اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل کلاس کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں سہولت دی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر گرما گرم بحث، عامر ڈوگر کا حکومت اور خارجہ پالیسی پر تنقید
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ٹیکس وصولیوں، بڑھتی غربت اور حکومتی اخراجات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا حقیقی فائدہ عام شہری تک پہنچنا چاہیے اور ٹیکس کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔
بحث کے دوران سیاسی معاملات بھی زیرِ گفتگو آئے۔ اسد قیصر، عامر ڈوگر اور احسن اقبال کے درمیان ماضی کی سیاسی صورتحال، پروڈکشن آرڈرز اور جمہوری روایات سے متعلق بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
بجٹ بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنی اپنی جماعتوں کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا، جبکہ معاشی اصلاحات، ٹیکس نظام، روزگار اور عوامی ریلیف کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
