اسلام آباد: سابق وزیراعظم Raja Pervaiz Ashraf نے مبینہ “انمول پنکی” کیس میں سوشل میڈیا پر اپنا نام شامل کیے جانے کے معاملے کو قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی داخلہ میں اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری سیاسی زندگی بے داغ انداز میں گزاری، لیکن بغیر کسی تصدیق کے ان کا نام لے کر انہیں مشکلات سے دوچار کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران راجا پرویز اشرف نے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات لگا کر سیاسی شخصیات کی ساکھ متاثر کی جا رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر قانون Azam Nazeer Tarar نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی بتایا کہ ایک وی لاگر کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ جھوٹی یا غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انمول عرف پنکی منشیات کیس، متعدد قریبی افراد کے نام پی این آئی ایل میں شامل
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی اس معاملے پر بحث ہوئی۔ کمیٹی رکن Khawaja Izhar ul Hassan نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں میں جدید سہولیات کی کمی ہے اور پولیس کے پاس الزامات ثابت کرنے کے لیے مناسب لیبارٹریاں موجود نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں ملزمہ چند ماہ میں رہا ہو سکتی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے سندھ اور پنجاب پولیس کو انکوائری کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
