بجٹ بحث کے دوران علی امین گنڈاپور کی اپنی حکومت پر تنقید، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں پر سوالات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے متعدد اہم سوالات اٹھا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل نہ ہونا حکومت اور منتخب نمائندوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے، جبکہ قانون سازی کے اثرات بھی ابھی تک عام شہری تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکے۔

latest urdu news

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمبلی بنیادی طور پر قانون سازی کا ادارہ ہے، لیکن اگر ان قوانین کے فوائد عوام کی زندگیوں میں بہتری نہ لا سکیں تو اس عمل کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور تمام شہریوں کو قانون کے مطابق حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔

عوامی مسائل کے حل پر زور

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار انسانی وسائل پر سرمایہ کاری سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط معیشت، مؤثر نظامِ انصاف، معیاری تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومت اور عوامی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترقی کا حقیقی معیار عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری سے جانچا جانا چاہیے، نہ کہ صرف اعلانات یا افتتاحی تقریبات سے۔

این ایف سی اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا معاملہ

سابق وزیراعلیٰ نے وفاقی مالیاتی نظام پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اپنا مکمل آئینی حق ملنا چاہیے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کے مالی حصے میں کمی ناانصافی کے مترادف ہے، جس سے صوبے میں احساسِ محرومی اور عدم اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر تحفظات

علی امین گنڈاپور نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض منصوبوں کے لیے انتہائی محدود فنڈز رکھے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی تکمیل میں کئی سال بلکہ دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہزارہ پیکج کے لیے 200 ارب روپے کے اعلانات کیے گئے، لیکن بجٹ میں اس کے مقابلے میں بہت کم رقم مختص کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کو صرف اعلانات پر نہیں بلکہ حقیقی فنڈنگ اور عملی پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے۔

زراعت، سیاحت اور معدنیات پر توجہ دینے کا مطالبہ

سابق وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے اہم شعبوں، جن میں زراعت، لائیو اسٹاک، معدنیات اور سیاحت شامل ہیں، کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ وسائل مختص نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہی شعبے خیبر پختونخوا کی معیشت کو مستحکم بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

قرضوں کے استعمال اور وسائل کی منصفانہ تقسیم

علی امین گنڈاپور نے قرضوں کے استعمال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قرض صرف ایسے منصوبوں کے لیے لیا جانا چاہیے جو مستقبل میں آمدن پیدا کر سکیں اور صوبے کو معاشی فائدہ پہنچائیں۔ ان کے مطابق محدود وسائل کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے عوامی ضرورت اور معاشی افادیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وسائل کی تقسیم میں توازن اور انصاف کو یقینی بنایا جائے اور تمام اضلاع کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک علاقے کو ترجیح دے کر دوسرے علاقوں کو نظر انداز کرنا صوبائی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماضی کی غلطیوں کا اعتراف

اپنی تقریر کے دوران علی امین گنڈاپور نے ماضی میں کیے گئے بعض فیصلوں پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن کے حلقوں میں مخصوص افراد کو فنڈز دینے سے متعلق ان کا سابقہ مؤقف درست نہیں تھا اور اسے وہ اپنی غلطی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں ایسے فیصلوں سے گریز کریں۔ ان کے مطابق حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وسائل کی تقسیم شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہو۔

نظام میں اصلاحات کی ضرورت

تقریر کے اختتام پر سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں وہ حکومت اور مختلف محکموں کا دفاع کرتے رہے، تاہم آج وہ زیادہ آزادانہ انداز میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں اور حقیقی تبدیلی کے لیے فرسودہ انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بجٹ اور پالیسی سازی کے عمل میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا تاکہ خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں اور عوام کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter