لاہور میں دو خواتین کی پراسرار موت، میڈیکل بورڈ کو تشدد کے شواہد نہ ملے، سی سی پی او

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور: سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ لاہور میں دو خواتین کی پراسرار موت کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، تاہم میڈیکل بورڈ کے معائنے میں جسمانی تشدد، بیرونی چوٹ یا زخم کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

latest urdu news

پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ دفعہ 176 ضابطہ فوجداری کے تحت ہونے والی مجسٹریل انکوائری میں بھی پولیس تشدد کے شواہد نہیں ملے۔ خواتین کی موت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ پولیس افسران اور گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

بلال صدیق کمیانہ کے مطابق دونوں خواتین کو 15 کی کال پر کارروائی کرتے ہوئے تھانہ ٹاؤن شپ منتقل کیا گیا تھا، جبکہ مدعی کی تحریری درخواست پر مقدمہ نمبر 1476/26، دفعات 379 اور 420 کے تحت درج کیا گیا۔

سی سی پی او نے کہا کہ دونوں خواتین نوسربازی کے متعدد مقدمات میں سابقہ ریکارڈ رکھتی تھیں اور لاہور سمیت گجرات میں بھی ان کے خلاف مقدمات درج تھے۔

ان کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں خواتین کے پولیس حراست میں لیے جانے سے قبل ہی ان کے کپڑے پھٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

لاہور میں خستہ عمارت کی چھت گر گئی، 4 افراد جان کی بازی ہار گئے، 6 زخمی

بلال صدیق کمیانہ نے مزید بتایا کہ میڈیکل بورڈ کے ابتدائی مشاہدات میں خواتین کے بازوؤں پر متعدد انجیکشن کے نشانات بھی سامنے آئے، جو انجیکشن کے مسلسل استعمال سے مطابقت رکھتے ہیں۔ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی نے ضروری نمونے حاصل کرلیے ہیں اور حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔

سی سی پی او لاہور نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے کسی بھی مرحلے پر پولیس تشدد، غفلت یا بدعنوانی کا ثبوت سامنے آیا تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter