جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بھی مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کے ذمہ داران نے صورتحال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث منافع خور عناصر کھلے عام من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق حکومت کی جانب سے حالیہ گندم کی ریکارڈ پیداوار کے دعوے کیے گئے تھے، مگر چند ہفتوں بعد ہی آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے تو آٹے کی قیمتیں آسمان سے کیوں باتیں کر رہی ہیں۔
روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر اور گردونواح میں قائم مختلف چکیوں پر گندم کا آٹا سرکاری نرخنامے کے برعکس من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں الگ الگ نرخ وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
جہلم: گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مہم کو مزید فعال بنایا جائے گا، سنیہ صافی
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں آٹے اور گندم کی سرکاری نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور خفیہ گوداموں میں چھپائی گئی گندم سرکاری تحویل میں لی جائے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ اضافی قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ غریب اور سفید پوش طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
