بیجنگ: چین میں ایک طالب علم امتحان کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس اسمارٹ چشمہ استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد امتحانی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ یکم جولائی کو پیش آیا، جہاں امتحان شروع ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد نگران عملے نے طالب علم کے چشمے کے لینز میں سبز رنگ کی ہلکی روشنی چمکتی دیکھی۔ شک ہونے پر طالب علم کو چشمہ اتارنے کا کہا گیا، جس پر اس نے اعتراف کیا کہ وہ اے آئی اسمارٹ گلاسز کے ذریعے امتحان میں نقل کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق طالب علم LeQi Smart Glasses استعمال کر رہا تھا، جنہیں گزشتہ سال ستمبر میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ اسمارٹ چشمہ DeepSeek، Tongyi Qianwen، Zhipu AI اور Doubao سمیت چار بڑے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے منسلک ہے اور سوالات کی تصاویر لے کر فوری طور پر ان کے جوابات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق طالب علم صرف چشمے کے فریم کو کنپٹی کے قریب چھو کر سوالات کی تصویر لیتا تھا، جس کے بعد اے آئی نظام انہیں تجزیہ کر کے جوابات مہیا کرتا تھا۔ اگرچہ تصویر لیتے وقت فریم پر موجود ایل ای ڈی لائٹ کو چھپا لیا جاتا تھا، تاہم مخصوص زاویوں سے لینز میں سبز روشنی نمایاں ہو جاتی تھی، جس کی وجہ سے نگران عملے کو شک ہوا اور نقل کا انکشاف ہو گیا۔
اے آئی دور کے مطابق تعلیمی انقلاب، چینی یونیورسٹیوں نے ہزاروں ڈگری پروگرامز ختم کر دیے
واقعے کی ویڈیوز اور خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ سستے سن شیڈ اسٹیکرز لگا کر اس سبز روشنی کو بھی چھپایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسے اشتہارات بھی سامنے آئے ہیں جن میں تقریباً 200 چینی یوآن کے عوض طلبہ کو اے آئی اسمارٹ چشمے کرائے پر دینے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ بعض فروخت کنندگان ان ڈیوائسز کو خاموش اور کم روشنی والے موڈ میں استعمال کرنے کی تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسی ٹیکنالوجی امتحانی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں کو نگرانی اور امتحانی ضوابط مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
