دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

عام طور پر کاغذ کے جہاز بچوں کے کھیل یا تعلیمی سرگرمی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن اٹلی کے انجینئرنگ کے طلبہ نے اسی سادہ خیال کو ایک غیر معمولی کامیابی میں تبدیل کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کر لیا، جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل کر لیا گیا ہے۔

latest urdu news

یہ منفرد منصوبہ اٹلی کی پیسا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طلبہ نے مکمل کیا، جنہوں نے جدید ایروناٹیکل انجینئرنگ کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا کاغذی جہاز تیار کیا جو نہ صرف اپنے حجم کے باعث منفرد ہے بلکہ کامیاب پرواز کے ذریعے نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کرنے میں کامیاب رہا۔

ریکارڈ ساز کاغذی جہاز کی خصوصیات

طلبہ کی تیار کردہ اس منفرد تخلیق کے پروں کا پھیلاؤ 20.04 میٹر ہے، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی تقریباً 7 میٹر ہے۔ اپنے غیر معمولی حجم کی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز قرار دیا گیا۔

اس کاغذی طیارے کو اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقد ہونے والی وی میک فیوچر (We Make Future) فیئر میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا، جہاں اس نے شائقین اور ماہرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔

مذاق سے شروع ہونے والا منصوبہ

اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کے مطابق اس کا آغاز کلاس روم میں تفریح کے طور پر چند چھوٹے کاغذی جہاز بنانے سے ہوا تھا۔ بعد ازاں طلبہ نے اس خیال کو سنجیدگی سے لیا اور فیصلہ کیا کہ ثابت کیا جائے کہ ایک سادہ کاغذ بھی انجینئرنگ کے پیچیدہ اصولوں کا عملی نمونہ بن سکتا ہے۔

مصر کے صحرا میں صدیوں پرانا بازنطینی شہر دریافت، آثارِ قدیمہ کی اہم کامیابی

اس منصوبے میں مجموعی طور پر 15 انجینئرنگ طلبہ نے حصہ لیا، جنہوں نے کئی ماہ تک مسلسل تحقیق، ڈیزائننگ اور تجربات کے بعد اس منفرد جہاز کو تیار کیا۔

جدید انجینئرنگ کا استعمال

طالب علموں نے بتایا کہ اس منصوبے میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاز کا ڈیزائن تیار کیا گیا تاکہ یہ اپنے بڑے حجم کے باوجود متوازن رہے اور پرواز کر سکے۔

جہاز کی تیاری کے لیے تقریباً 300 کلوگرام کاغذ اور 60 کلوگرام گوند (گلیو) استعمال کی گئی۔ کاغذ کو اس انداز سے جوڑا گیا کہ اس کی اندرونی ساخت شہد کی مکھیوں کے چھتے (Honeycomb Structure) جیسی بن گئی، جو کم وزن کے ساتھ زیادہ مضبوطی اور بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہی تکنیک جدید ہوائی جہازوں اور دیگر انجینئرنگ ڈھانچوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔

نیا عالمی ریکارڈ

ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جب اس کاغذی جہاز کو اڑایا گیا تو اس نے 59 میٹر تک کامیاب پرواز کی۔ اس کارکردگی کے ساتھ اس نے 2013 میں قائم ہونے والا سابق عالمی ریکارڈ توڑ دیا اور دنیا کے سب سے بڑے کاغذی جہاز کا اعزاز حاصل کر لیا۔

تعلیمی منصوبے سے عالمی کامیابی تک

طلبہ کے مطابق جو منصوبہ ابتدا میں محض ایک مذاق اور کلاس روم کی سرگرمی تھا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک مکمل تحقیقی اور انجینئرنگ منصوبے میں تبدیل ہو گیا۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ تخلیقی سوچ، ٹیم ورک اور سائنسی اصولوں کا امتزاج بظاہر سادہ خیالات کو بھی عالمی سطح کی کامیابی میں بدل سکتا ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف انجینئرنگ کے طلبہ کی فنی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ نوجوان محققین کے لیے اس بات کی مثال بھی ہے کہ اختراع اور تحقیق کے ذریعے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter