وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اراکین کی مراعات سے متعلق منظور کیے گئے بل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون رات کی تاریکی میں منظور کیا گیا اور عوام سے اس کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بل میں بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس سے استثنا، سرکاری ریسٹ ہاؤسز کی سہولیات، اسلحہ لائسنسوں میں اضافہ اور بعض قانونی تحفظات جیسی مراعات شامل ہیں، جو عوامی مفاد کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول ایسی مراعات تو "مغلِ اعظم” کو بھی حاصل نہیں تھیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اگر صحافیوں کے اسمبلی میں داخلے پر پابندیاں عائد کی گئیں تو یہ آزادیٔ صحافت پر حملہ ہوگا، جبکہ اراکین اسمبلی کو قانون سے بالاتر قرار دینے کی کوئی بھی کوشش آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔
