سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جرگے یا رسم و رواج کو شریعت اور قانون سے بالاتر حیثیت حاصل نہیں۔
مٹھی خان کی وراثتی زمین سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا اسلامی شریعت اور ملکی قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد پر کوئی قانونی حق قائم نہیں رہتا اور وراثتی زمین صرف اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم ہوگی۔
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، 71 سال بعد بہنوں اور والدہ کو وراثتی حق دلانے کا حکم
عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور شریعت کے خلاف ہر قبائلی روایت یا جرگے کا فیصلہ کالعدم تصور ہوگا۔
