خیبرپختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، ملازمین کیلئے تنخواہوں میں اضافے اور کم از کم اجرت بڑھانے کی تجویز

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج اور نعرے بازی کے دوران نئے مالی سال کا 2 ہزار 170 ارب روپے حجم کا بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید شور شرابا کیا، تاہم وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے بجٹ کی اہم تجاویز ایوان کے سامنے رکھیں۔

latest urdu news

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے کے لیے 468 ارب روپے اور صحت کے لیے 334 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے 519 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس میں بندوبستی اضلاع، قبائلی اضلاع اور ضم شدہ علاقوں کے لیے الگ الگ فنڈز رکھے گئے ہیں تاکہ صوبے کے تمام علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 2765 منصوبے شامل ہیں، جن میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبے شامل ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر 2448 ارب روپے درکار ہوں گے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 39 ارب 49 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری جامعات کے لیے 11 ارب 90 کروڑ روپے اور انسانی وسائل کی ترقی کے منصوبوں کے لیے 8 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب بجٹ 2026-27: صحت، تعلیم اور کھیلوں کے شعبوں میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تجویز

تعلیمی شعبے میں مفت درسی کتب، گرانٹس، اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم، کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ اور طلبہ کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اساتذہ کی نئی بھرتیوں اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے بھی خصوصی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

امن و امان کے قیام کے لیے 191 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے 14 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح بی آر ٹی منصوبے کے لیے 7.5 ارب روپے اور ریسکیو 1122 کی خدمات کو مزید اضلاع تک پھیلانے کے لیے 2.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے لیے قرضہ اسکیموں، کھیلوں کے فروغ اور مختلف سماجی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور صوبے کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter