امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ "اصل اختیار کس کے پاس ہے”۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ٹرمپ کی نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے ہو سکتی ہے، تاہم اس ملاقات کے حتمی شیڈول کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
"ہمارے تعلقات اچھے ہیں”
ایکسیوس سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم جانتے ہیں کہ "اصل اختیار کس کے پاس ہے”۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا اشارہ اپنی ذات کی طرف تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور غزہ کی صورتحال پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مختلف امور پر تبادلہ خیال جاری ہے۔
ممکنہ ملاقات کی اہمیت
رپورٹ کے مطابق اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی۔
ایکسیوس کے مطابق فروری میں ہونے والی ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی امریکی صدر کے سامنے پیش کی تھی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے بعد ٹرمپ کے بعض قریبی مشیروں میں اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسیوں کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے متعدد قریبی مشیر یہ سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو مختلف اہم معاملات میں درست اندازے لگانے میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران، غزہ، لبنان اور دیگر علاقائی معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض پالیسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے دونوں حکومتوں کے تعلقات پر اثر ڈالا ہے۔
لبنان اور علاقائی صورتحال
ایکسیوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر نیتن یاہو سے فون پر سخت گفتگو کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان اختلافات نے اسرائیل سے متعلق امریکی ریپبلکن پارٹی کے اندر پہلے سے موجود مختلف آرا کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
تاہم امریکا اور اسرائیل نے ان رپورٹس کے تمام نکات پر باضابطہ طور پر کوئی مشترکہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
ایران سے متعلق ٹرمپ کے بیانات
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران سے ممکنہ مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے، تاہم دونوں فریقوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے تک مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر رکھا جائے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس عرصے کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے، تاہم اس حوالے سے ایران یا امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
جنازے سے متعلق متنازع تبصرہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران عوامی شرکت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لوگ غم کا اظہار کر رہے تھے، کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک یہ جذباتی اظہار حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور محض دکھاوے پر مبنی بھی، تاہم اس حوالے سے انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
امریکا اور اسرائیل قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، تاہم خارجہ پالیسی، ایران سے مذاکرات، غزہ کی جنگ اور خطے کی مجموعی سلامتی سے متعلق بعض معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مجوزہ ملاقات ہوتی ہے تو توقع ہے کہ ایران، غزہ، لبنان اور خطے کی مجموعی صورتحال اس کے اہم موضوعات ہوں گے۔
