ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی رہائی، ہرمز میں رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے کے معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا اہم نتیجہ قرار دیا۔

latest urdu news

باقر قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے دوران رابطے اور مواصلاتی نظام کو مؤثر بنانے پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں کسی بھی غلط فہمی، تصادم یا کشیدگی کے امکانات کو کم کرنا اور جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کے دوران لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ سے متعلق بھی اتفاق کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت مذاکراتی عمل کا ایک اہم حصہ ہے جس سے خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi اور مذاکراتی وفد کے ارکان آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر مزید مشاورت کے لیے Oman پہنچ گئے ہیں، جہاں علاقائی سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے معاملات پر گفتگو جاری رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے حوالے سے ایک اہم جنرل لائسنس جاری کیا ہے، جس کے تحت محدود مدت کے لیے ایرانی خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اجازت کے مطابق ایران 21 اگست تک اپنی تیل برآمدات جاری رکھ سکے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان پہنچیں گے، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا شیڈول جاری

اس سے قبل Switzerland میں امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ منظور کیا گیا تھا۔ فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے واضح کیا ہے کہ بعض ممالک کے لیے ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی، جبکہ دیگر معاملات پر پالیسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter