امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد اختتام پذیر ہونے والی ہے اور آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی نیچے آ سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود مذاکراتی عمل میں شامل ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت مثبت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران زیادہ عرصے تک امریکا کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکے گا۔
امریکی صدر نے جنگ کے دوران اسلحے کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث امریکا کے اسلحے کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران سے متعلق 6 اداروں اور ایک شخصیت کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی ماہر کا انتباہ: ایران جنگ ٹرمپ کے لیے پیچیدہ چیلنج بن گئی
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں میں دو بڑے ڈیجیٹل اثاثوں کے ایکسچینج بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ایرانی حکومت بین الاقوامی مالیاتی روابط برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔
