وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ترکش پیٹرولیم کی آف شور سرگرمیوں کے بعد پاکستان میں توانائی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری آنے کی امید ہے
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندری علاقوں میں آف شور ڈرلنگ شروع کرنے جا رہی ہے، جس کے بعد ملک میں توانائی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ترکش پیٹرولیم کی آف شور ڈرلنگ
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندری علاقوں میں آف شور ڈرلنگ کے منصوبے پر کام کرنے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سرگرمی کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
آف شور ڈرلنگ کے ذریعے سمندر کے نیچے موجود تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر تلاش کیے جاتے ہیں۔ تاہم کسی علاقے میں ڈرلنگ شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہاں لازماً تجارتی مقدار میں تیل یا گیس دریافت ہوجائے گی۔ اصل صورتحال ڈرلنگ اور بعد ازاں تکنیکی و تجارتی جائزوں کے نتیجے میں ہی واضح ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے سمندری علاقوں میں ہائیڈروکاربن کے نئے ذخائر کی تلاش اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل اور گیس پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اگر تجارتی پیمانے پر کوئی بڑی دریافت ہوتی ہے تو اس سے مستقبل میں درآمدی بل کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعاون
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان خطے میں امن اور تحفظ کے ضامن کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے مکہ مشترکہ معاہدے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اس پر فخر ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیہ کی ترقی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت خطے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ان ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ذکر
علی پرویز ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عملی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے جوہری صلاحیت حاصل کرکے ملک کو دفاعی طور پر مضبوط بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کو معاشی سطح پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل فیصلے کیے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اب اگلی منزل معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل کرنا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں اور قلت پر مؤقف
وفاقی وزیر نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول پیٹرول اب بھی مہنگا ہے، تاہم ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔
انہوں نے بعض ہمسایہ ممالک میں پیٹرول کی دستیابی کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شناختی کارڈ دکھانے پر فی شخص دو لیٹر تک پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت کا مقصد توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ترکش پیٹرولیم کی متوقع آف شور ڈرلنگ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم سرگرمی قرار دی جارہی ہے، تاہم اس سے حاصل ہونے والے نتائج ڈرلنگ مکمل ہونے اور ممکنہ ذخائر کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
