یورپ میں شدید گرمی، خشک ہوتے دریاؤں سے نازی دور کے جنگی جہاز ظاہر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

شدید خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہوگئی، جس سے دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے جنگی جہاز دوبارہ دکھائی دینے لگے

latest urdu news

یورپ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی اور طویل خشک سالی نے دریاؤں کی صورتحال کو تشویش ناک بنا دیا ہے۔ پانی کی سطح میں غیر معمولی کمی کے باعث دریائے ڈینیوب کے کچھ حصوں میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے جنگی جہازوں کے ملبے اور ڈھانچے دوبارہ سطح کے قریب نظر آنے لگے ہیں۔

یہ منظر نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ تقریباً ایک صدی پرانے جنگی واقعات کی یاد بھی تازہ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی کمی کے اثرات صرف ماحول اور زراعت تک محدود نہیں بلکہ توانائی اور دریائی نقل و حمل جیسے اہم شعبے بھی متاثر ہورہے ہیں۔

دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح کم

شدید گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح کئی مقامات پر غیر معمولی حد تک گر گئی ہے۔ ڈینیوب یورپ کے اہم ترین دریاؤں میں شمار ہوتا ہے اور متعدد ممالک سے گزرتے ہوئے خطے کی تجارت، زراعت، توانائی اور نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پانی کی سطح کم ہونے کے نتیجے میں دریا کے کچھ حصوں میں ایسی چیزیں بھی نمایاں ہوگئی ہیں جو عام حالات میں کئی فٹ پانی کے نیچے چھپی رہتی ہیں۔ ان میں دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

نازی دور کے جنگی جہاز کیسے ڈوبے؟

رپورٹ کے مطابق یہ جنگی جہاز دوسری جنگ عظیم کے آخری مرحلے میں دریائے ڈینیوب میں ڈبوئے گئے تھے۔ اس وقت جرمن فوج کو سوویت افواج کی پیش قدمی کا سامنا تھا اور ان جہازوں کو دریا میں ڈبونے کا مقصد سوویت پیش قدمی کو روکنا اور دریائی راستے کو مشکل بنانا تھا۔

یہ جہاز آج بھی دریا کے اندر موجود ہیں اور پانی کی سطح میں غیر معمولی کمی کے باعث ان کے کچھ حصے نمایاں ہوگئے ہیں۔ تاہم ان پرانے جنگی جہازوں کو ہٹانا آسان نہیں، کیونکہ ان میں موجود دھماکا خیز مواد اور جنگی سازوسامان اب بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ، عالمی ادارۂ صحت نے تشویش کا اظہار کر دیا

اسی وجہ سے ان ملبوں کو ہٹانے یا محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے خصوصی احتیاط اور تکنیکی اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

خشک سالی سے توانائی کا بحران بھی بڑھنے کا خدشہ

دریاؤں میں پانی کی کمی کا اثر صرف تاریخی باقیات کے ظاہر ہونے تک محدود نہیں۔ یورپ میں کم پانی کی سطح توانائی کے شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بجلی کی پیداوار کے لیے دریاؤں کے پانی پر انحصار کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کم پانی کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے سامان کی ترسیل اور علاقائی تجارت پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

یوں دریائے ڈینیوب میں جنگی جہازوں کا دوبارہ نظر آنا بظاہر ایک تاریخی منظر ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود شدید گرمی، بارشوں میں کمی اور خشک سالی یورپ کو درپیش ایک بڑے ماحولیاتی اور معاشی چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter