اسلام آباد: ایران کے صدر Masoud Pezeshkian آج پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ وزیراعظم Shehbaz Sharif کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر اپنے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی لا رہے ہیں۔ دورے کے دوران وہ پاکستان کی سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar شامل ہیں۔
ملاقاتوں کے دوران پاک ایران تعلقات، علاقائی امن و سلامتی، سرحدی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی انتظامات اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کا بھی جائزہ لیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فریقین علاقائی رابطہ کاری، عالمی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر بھی مشاورت کریں گے۔ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور باہمی معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔
ایران پر دباؤ سے نتائج نہیں نکلیں گے، سفارت کاری ہی بہتر راستہ ہے: مسعود پزشکیان
پاکستان اور ایران کی قیادت خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کرے گی، جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان کا یہ دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تاریخی، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بطور صدر ایران ان کا پاکستان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے۔
