سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات: موسم گرما کے آغاز سے جڑے دلچسپ سائنسی حقائق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان سمیت دنیا کے شمالی نصف کرے میں 21 جون کو سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات تصور کیا جاتا ہے۔ اس قدرتی مظہر کو سائنسی اصطلاح میں خط سرطان (Summer Solstice) کہا جاتا ہے۔ اس دن سورج اپنی سالانہ گردش کے دوران آسمان میں بلند ترین مقام پر پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں دن کی روشنی کا دورانیہ سب سے زیادہ اور رات سب سے کم ہوتی ہے۔

latest urdu news

خط سرطان کیا ہے؟

خط سرطان اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمین کا شمالی قطب سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں سورج خط استوا سے سب سے زیادہ دور دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث شمالی نصف کرے میں دن طویل اور رات مختصر ہو جاتی ہے۔

یہ ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے جو ہر سال جون کے آس پاس پیش آتا ہے، تاہم اس کی تاریخ ہر سال معمولی فرق کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ سالوں میں یہ 21 جون جبکہ بعض سالوں میں 22 جون کو بھی دیکھا گیا ہے۔

دن اور رات کے دورانیے میں فرق

اس موقع پر پاکستان میں دن کا دورانیہ تقریباً 14 سے 15 گھنٹے کے درمیان ہوتا ہے، جو ملک کے مختلف شہروں کے لحاظ سے تھوڑا بہت مختلف ہو سکتا ہے۔ دنیا کے بعض شمالی علاقوں، خاص طور پر الاسکا میں، اس دن سورج تقریباً 21 گھنٹے سے زائد وقت تک افق پر موجود رہتا ہے۔

اس کے برعکس جنوبی نصف کرے میں صورتحال بالکل الٹ ہوتی ہے، جہاں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوتی ہے، اور وہاں اس وقت سردیوں کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے۔

سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات: موسم گرما کے آغاز سے جڑے دلچسپ سائنسی حقائق

موسم اور زمین کی گردش کا تعلق

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ گرمیوں میں زمین سورج کے قریب ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ موسموں کی تبدیلی زمین کے سورج کے گرد گردش کے دوران اس کے محور کے جھکاؤ کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ سورج سے فاصلے کی بنیاد پر۔ درحقیقت جون میں زمین سورج سے نسبتاً دور ہوتی ہے، لیکن محور کا جھکاؤ شمالی نصف کرے کو زیادہ سورج کی روشنی فراہم کرتا ہے۔

دنیا بھر میں روایات اور ثقافتی تقریبات

مختلف ممالک میں اس دن کو ثقافتی اور روایتی انداز میں منایا جاتا ہے۔ سوئیڈن میں اسے "مڈ سمر” کہا جاتا ہے، جہاں لوگ فطرت کے قریب اجتماعات اور تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ یہ دن اکثر جمعے کے قریب منایا جاتا ہے، اس لیے تاریخ ہر سال کچھ فرق کے ساتھ بدل سکتی ہے۔

برطانیہ کے تاریخی مقام اسٹون ہینج پر بھی ہر سال ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں تاکہ طلوع آفتاب کا نظارہ کر سکیں اور اس قدرتی مظہر کو دیکھیں۔ یہ روایت قدیم تہذیبوں سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔

تاریخی اور سائنسی اہمیت

قدیم مصر میں خط سرطان کے موسم کو نئے سال کے آغاز سے بھی جوڑا جاتا تھا۔ اسی طرح بعض تہذیبوں میں اسے زرخیری اور فصلوں کی پیداواری صلاحیت سے بھی منسلک کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ اس وقت فصلوں کی کاشت اور نمو کا عمل تیزی سے ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس دن زمین اپنی محوری جھکاؤ کی انتہا پر ہوتی ہے، جس کے باعث دن کی طوالت زیادہ اور روشنی کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے بعد سورج کی پوزیشن بتدریج تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور دسمبر تک یہ عمل الٹ سمت میں جا کر سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات پیدا کرتا ہے۔

یہ قدرتی نظام نہ صرف موسموں کی تبدیلی کا بنیادی سبب ہے بلکہ زمین کے ماحول، زراعت اور انسانی سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter